dailyalraziquetta1.8
daily alrazi newspaper breaking urdu news quetta

جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل صرف وقتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ ملک کے بنیادی نظام کو جمہوری اصولوں کے مطابق درست کرنا ہوگا،جب تک نظام میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، مسائل بار بار سامنے آتے رہیں گے،جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا۔اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ 70سے 80برسوں سے کئی مسائل مسلسل چلے آرہے ہیں، ہم سب جمہوریت کے حامی ہیں، لیکن جمہوری نظام کے اندر بھی مختلف طریقہ کار اور ڈھانچے موجود ہوتے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کا نام عالمی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے، مختلف شعبوں میں کامیابیاں سامنے آ رہی ہیں، لیکن یہ صرف وقتی بحرانوں سے نمٹنے کی کوششیں ہیں۔ جب تک ملک کے بنیادی نظام کو درست نہیں کیا جائے گا، مسائل برقرار رہیں گے۔محسن نقوی نے کہا کہ ملک کا سیاسی نظام چلانے والے تمام طبقات، سیاسی جماعتیں، کاروباری افراد اور ادارے اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ نظام کی بہتری کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران مختلف لوگ سیاسی نظام کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ نظام کی اصلاح کے لیے اپنی آواز بھی بلند کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عام شہری کو بنیادی سہولیات، انصاف اور حکومت تک آسان رسائی چاہیے، مگر آج بھی کئی لوگ دور دراز علاقوں سے کئی گھنٹے سفر کرکے عدالتوں اور سرکاری اداروں تک پہنچتے ہیں۔ عوام کو ان کے علاقوں میں ہی سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ انتظامی یونٹس کو عوامی سطح تک لے جانا ضروری ہے، کیونکہ جب تک مقامی سطح پر ذمہ داری اور اختیار نہیں ہوگا، مسائل کا موثر حل ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صنعت میں اربوں ڈالر کی برآمدات کی صلاحیت موجود ہے، لیکن نظام کی رکاوٹوں کے باعث اس صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ کاروباری طبقہ ملک کی معیشت کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اسے قومی فیصلہ سازی میں اہم کردار دینا ہوگا۔محسن نقوی نے نوجوانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان صرف چند ہزار روپے کی امداد یا سہولیات نہیں چاہتے، بلکہ وہ انصاف، میرٹ، روزگار کے مواقع اور ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں انہیں اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملے۔آپ اس نوجوان کو کاکروچ کہہ سکتے ہیں، آپ اسے کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن میں آپ کو ایک بات بتاﺅں گا کہ اگر یہی کاکروچ ایک یونٹ بن جائے تو یہ سب کچھ بدل سکتا ہے۔وزیر داخلہ نے ملک کے مالی مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی نظام میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر سال بجٹ خسارے اور قرضوں کے دبا کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ مسائل کیا ہیں، اب ضرورت ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف دن رات کام کر رہے ہیں اور حکومت مسلسل بحرانوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن مستقل بہتری کے لیے سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔اگر سیاسی جماعتیں ایک جگہ بیٹھ کر ملک کے بنیادی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کریں تو بہتری ممکن ہے، بصورت دیگر کانفرنسیں، سیمینار اور اجلاس ہوتے رہیں گے مگر مسائل برقرار رہیں گے۔انہوں نے کاروباری برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری افراد کو صرف تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے معیشت کا اہم ستون سمجھنا چاہیے۔ دنیا بھر میں کاروباری طبقہ ترقی کا انجن ہوتا ہے، پاکستان میں بھی اسے مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ کاروباری افراد میں محدود وسائل کو بڑھانے اور مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اس لیے انہیں ملک کی قیادت اور پالیسی سازی کے عمل میں زیادہ شامل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اور انتظامی نظام میں بھی بہتری کی ضرورت ہے، کیونکہ آبادی بڑھانے کے بجائے وسائل، اختیارات اور سہولیات کی منصفانہ تقسیم پر توجہ دینی ہوگی۔وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی قیادت، کاروباری طبقے اور تمام اہم حلقوں کو مل کر بنیادی اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور موجودہ انتظامی نظام کے مسائل کا حل نکالنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر سنجیدہ فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مزید صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کے معاملے کو قومی سطح پر بحث کا حصہ بنایا جائے۔آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور سب یہ کہتے ہیں کہ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اسے روکنے کے لیے عملی کوشش کون کر رہا ہے۔آبادی بڑھنے سے وسائل پر دبا بڑھتا ہے، لیکن ہم میں سے کوئی بھی اس نظام کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ موجودہ نظام میں مختلف مفادات وابستہ ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں اپنی طاقت اور مالی وسائل کے نظام کو نچلی سطح تک لے کر جانا ہوگا۔ یہ فیصلہ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو مل کر، اتفاق رائے سے کرنا ہوگا، کیونکہ اس کے بغیر مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کیوں اس وقت کا انتظار کریں جب عوامی دبا ﺅکے باعث ہمیں فیصلے کرنا پڑیں؟ ہمیں پہلے ہی یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ اگر گلی محلے کا نظام خراب ہے اور ایک ہی سڑک یا گلی بار بار بنائی جاتی ہے تو ہمیں معلوم ہونے کے باوجود اس نظام کو درست نہیں کرتے۔ موجودہ نظام میں بہت سی اچھی چیزیں ہیں، لیکن اس کی خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ آپس میں بیٹھیں اور فیصلہ کریں کہ نظام میں کہاں کہاں اصلاحات کی ضرورت ہے اور ملک کو بہتر انداز میں کیسے چلایا جا سکتا ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی سطح پر آگے لے جانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، لیکن اندرونی نظام بھی درست کرنا ہوگا تاکہ ملک ترقی کے راستے پر مستقل آگے بڑھ سکے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، سب کو ملک کے لیے مل کر سوچنا ہوگا۔ اگر ایک شخص عالمی سطح پر پاکستان کا نام بلند کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو ہمیں اندرونی نظام بھی درست کرنا ہوگا تاکہ آنے والے انتخابات سے پہلے ملک ترقی کی سمت پر گامزن ہو سکے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ تعلیم، صحت اور عدالتی نظام سمیت تمام شعبوں میں بہتری کے لیے اقدامات ضروری ہیں، لیکن بنیادی مسئلہ انتظامی نظام کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تقسیم ہند کے وقت بھارت کے 14 صوبے تھے اب 32 ہیں، انڈونیشیا ءمیں 38 صوبے ہیں، انہیں آپ جو بھی نام دینا چاہیں دیں، لیکن انتظامی تقسیم کے ذریعے عوام کو سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔اس معاملے پر پارلیمنٹ، جامعات، کالجز، میڈیا اور دانشوروں کے حلقوں میں بحث ہونی چاہیے تاکہ اس کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات عوام کی رائے ہے، اگر عوام چاہتے ہیں کہ طاقت اور اختیارات کا مرکز ان کے قریب ہو تو ایسا کرنا چاہیے، اور اگر عوام اس کے حق میں نہیں تو اسے نافذ نہیں کرنا چاہیے۔وزیر داخلہ نے نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان طبقہ اس معاملے پر بہت حساس ہے، اس لیے ان کی خواہشات اور رائے کو سننا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری، وکلا برادری اور تمام متعلقہ طبقات اگر اس مقصد کے لیے ساتھ کھڑے ہوں تو کوئی کام ناممکن نہیں۔محسن نقوی نے کاروباری برادری کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ملک کی بہتری اور اصلاحات کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور جس حد تک ضرورت ہوئی تعاون کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے، یہ اللہ تعالی کی طرف سے ملک کے لیے ایک موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو بہتر سمت میں لے جانا چاہیے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More