Category: بین الاقوامی

  • ایران کو 3 ارب ڈالرز دینے پر عبوری اتفاق ہوگیا، عرب ٹی وی کا دعویٰ

    ایران کو 3 ارب ڈالرز دینے پر عبوری اتفاق ہوگیا، عرب ٹی وی کا دعویٰ

    ایران کو 3 ارب ڈالرز دینے پر عبوری اتفاق ہوگیا ہے۔ 

    عرب ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مذاکرات میں ہر پیشرفت کیساتھ 3 ارب ڈالر جاری کرنے کی شرط رکھی ہے۔

    عرب ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز پر سلطنت عمان کی طرف سے تجویز کردہ منصوبے کی بنیاد پر بات چیت جاری ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں سلطنت عمان کی تجویز پر مشاورت کیلئے مذاکراتی وفود اپنے اپنے ممالک جائیں گے۔

  • ایران کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بہت کام باقی ہے: اسرائیلی وزیراعظم

    ایران کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بہت کام باقی ہے: اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل نے ایران، حماس اور حزب اللہ کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور ایرانی پراکسیز کے خلاف مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

    یہ بات انہوں نے اسرائیل کے نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہی جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران، حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگیں ختم ہوچکیں یا ان میں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے؟

    انہوں نے کہا کہ یہ جنگیں کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، اگر آپ مشرقِ وسطیٰ اور دنیا میں محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو ہر وقت مضبوط اور چوکنا رہنا ہوگا۔

    نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکا ہے اور اس نے اپنے دشمنوں کو نمایاں حد تک کمزور کر دیا ہے تاہم ان کے بقول ابھی بھی بہت سا کام باقی ہے، ہمیں ایرانی محور کے باقی ماندہ عناصر سے نمٹنا ہوگا اور ساتھ ہی امن معاہدوں کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔

    دوران انٹرویو نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ وہ کن ممالک کے ساتھ مستقبل میں امن معاہدوں کی توقع رکھتے ہیں اور کیا ان میں سعودی عرب بھی شامل ہے تو انہوں نے کسی ملک کا نام لینے سے گریز کیا۔

    انہوں نے کہا کہ میں ابھی کسی ملک کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ میں نتائج دینا چاہتا ہوں لیکن وقت آنے پر سب دیکھیں گے، لبنان کے ساتھ ایسی پیشرفت ہوئی جس کا کسی کو تصور بھی نہیں تھا، دیگر ممالک کے ساتھ بھی رابطے جاری ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ جب کوئی ملک طاقتور ہوتا ہے تو دوسرے ممالک اس کے ساتھ اتحاد بھی کرتے ہیں اور امن معاہدے بھی کرتے ہیں۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات بدستور جاری ہیں، جے ڈی وینس کا بڑا دعویٰ

    امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات بدستور جاری ہیں، جے ڈی وینس کا بڑا دعویٰ

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی نوعیت کے مذاکرات بدستور جاری ہیں اور یہ بات چیت پہلے سے جاری سفارتی عمل کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تکنیکی سطح پر رابطے اور مذاکرات جاری ہیں جن کا مقصد پہلے سے طے شدہ امور پر پیش رفت کو آگے بڑھانا ہے۔

    انہوں نے دوحہ میں جاری ممکنہ مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید پر بھی تبصرہ کیا۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک ایران کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات مذاکراتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جسے انہوں نے ’فارسی طرزِ مذاکرات‘ قرار دیا۔

    امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ تکنیکی مذاکرات کسی نئے مرحلے کا آغاز نہیں بلکہ پہلے سے جاری سفارتی عمل کا تسلسل ہیں، اور دونوں فریق مختلف تکنیکی معاملات پر رابطے میں ہیں۔

    ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کے ساتھ کسی حتمی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا مرحلہ ابھی شروع نہیں ہوا، تاہم ایران نے اس ہفتے دوحہ میں مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق تکنیکی بات چیت کے لیے ایک ماہر وفد بھیجنے کی تصدیق کی ہے۔

     

    سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک عوامی سطح پر مختلف مؤقف اختیار کر رہے ہیں، تاہم سفارتی رابطے اور تکنیکی مشاورت کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔

    آنے والے دنوں میں دوحہ میں ہونے والی ممکنہ ملاقاتیں خطے کی صورتحال اور دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا باعث بن سکتی ہیں۔

  • تباہ کن زلزلوں کے بعد وینزویلا کا آسمان مکمل سرخ ہوگیا

    تباہ کن زلزلوں کے بعد وینزویلا کا آسمان مکمل سرخ ہوگیا

    وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس سمیت مختلف علاقوں میں آسمان اچانک گہرے سرخ اور نارنجی رنگ میں تبدیل ہوگیا، جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئیں۔ غیر معمولی منظر نے شہریوں میں خوف، تجسس اور مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب وینزویلا حالیہ تباہ کن زلزلوں کے بعد بحالی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ آسمان کے سرخ رنگ کو دیکھ کر بعض افراد نے اسے آنے والی کسی نئی آفت یا قیامت کی نشانی قرار دیا، جبکہ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے اس غیر معمولی منظر پر حیرت کا اظہار کیا۔

     

    ماہرین نے عوامی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ایک قدرتی فضائی مظہر ہے، جسے مقامی طور پر “کاندیلازو” کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق غروبِ آفتاب کے وقت سورج کی روشنی فضا میں موجود گرد، باریک ذرات اور صحارا کے صحرائی غبار سے گزرتی ہے، جس کے باعث سرخ اور نارنجی شعاعیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔ اس عمل کو سائنسی زبان میں رے لی اسکیٹرنگ کہا جاتا ہے۔

     

    ماہرین نے مزید کہا کہ اس سرخ آسمان کا حالیہ زلزلوں سے براہِ راست کوئی سائنسی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ اگرچہ زلزلوں کے بعد فضا میں گرد و غبار کی مقدار بڑھنے سے رنگ زیادہ نمایاں دکھائی دے سکتا ہے، تاہم اسے کسی نئی قدرتی آفت کی علامت سمجھنا درست نہیں۔

     

     

    https://www.instagram.com/reel/DaPiN1XOd4w/?utm_source=ig_web_copy_link&igsh=MzRlODBiNWFlZA%3D%3D

     

     

    واضح رہے کہ وینزویلا گزشتہ چند روز سے شدید زلزلوں کے باعث بڑے انسانی اور مالی نقصان کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ ایسے ماحول میں سرخ آسمان کی تصاویر نے عوامی توجہ مزید اپنی جانب مبذول کرا لی ہے، تاہم سائنس دانوں نے لوگوں سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور صرف مستند معلومات پر انحصار کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • روس کی پاکستان، افغانستان سے اختلافات ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی اپیل

    روس کی پاکستان، افغانستان سے اختلافات ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی اپیل

    روسی وزارت خارجہ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں ہونے والے حالیہ واقعات افسوسناک ہیں، اسلام آباد اور کابل مسلح تصادم ختم کریں اور تمام متنازعہ امور کو سیاسی اور سفارتی طریقے سے حل کریں۔

     

    بیان میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل کی گئی ہے۔

  • امریکی وفد کی قطری وزیراعظم سے ملاقات، تہران واشنگٹن مذاکرات پر گفتگو

    امریکی وفد کی قطری وزیراعظم سے ملاقات، تہران واشنگٹن مذاکرات پر گفتگو

    قطری وزارت خارجہ کے مطابق وزیراعظم نے ملاقات کے دوران قطر کی ثالثی کی کوششوں کا اعادہ کیا اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق مذاکرات کی حمایت کا اظہار کیا۔

     

    ملاقات میں خطے کی تازہ صورتحال پر بات چیت ہوئی، جبکہ لبنان میں جاری جنگ بندی کی پیشرفت پر بھی غور کیا گیا۔

     

    وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ایرانی اور امریکی تکنیکی وفود کی بات چیت مختلف سطحوں پر جاری ہے اور یہ اجلاس مختلف مقامات پر ثالثوں کی موجودگی میں ہو رہے ہیں تاکہ مذاکرات کا تسلسل برقرار رہے، خواہ وہ دوحہ میں ہوں یا کسی اور مقام پر۔

     

    ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی اعلیٰ سطحی براہ راست ملاقات جاری نہیں ہے، تاہم تکنیکی اور ثالثی سطح پر رابطے برقرار ہیں

  • ایران کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بہت کام باقی ہے: اسرائیلی وزیراعظم

    ایران کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بہت کام باقی ہے: اسرائیلی وزیراعظم

     

    یہ بات انہوں نے اسرائیل کے نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہی جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران، حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگیں ختم ہوچکیں یا ان میں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے؟

     

    انہوں نے کہا کہ یہ جنگیں کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، اگر آپ مشرقِ وسطیٰ اور دنیا میں محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو ہر وقت مضبوط اور چوکنا رہنا ہوگا۔

     

    نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکا ہے اور اس نے اپنے دشمنوں کو نمایاں حد تک کمزور کر دیا ہے تاہم ان کے بقول ابھی بھی بہت سا کام باقی ہے، ہمیں ایرانی محور کے باقی ماندہ عناصر سے نمٹنا ہوگا اور ساتھ ہی امن معاہدوں کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔

     

    دوران انٹرویو نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ وہ کن ممالک کے ساتھ مستقبل میں امن معاہدوں کی توقع رکھتے ہیں اور کیا ان میں سعودی عرب بھی شامل ہے تو انہوں نے کسی ملک کا نام لینے سے گریز کیا۔

     

    انہوں نے کہا کہ میں ابھی کسی ملک کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ میں نتائج دینا چاہتا ہوں لیکن وقت آنے پر سب دیکھیں گے، لبنان کے ساتھ ایسی پیشرفت ہوئی جس کا کسی کو تصور بھی نہیں تھا، دیگر ممالک کے ساتھ بھی رابطے جاری ہیں۔

     

    اسرائیلی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ جب کوئی ملک طاقتور ہوتا ہے تو دوسرے ممالک اس کے ساتھ اتحاد بھی کرتے ہیں اور امن معاہدے بھی کرتے ہیں۔