اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق، آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ہوگئے، جنہیں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ،14 خاندانوں میں خوشیاں لانے والے معصوم نومولودوں کی موت پر ہر طرف اداسی اور غم کا راج دکھائی دیا، ہر آنکھ اشکبار تھی ۔تفصیلات کے مطابق پمز ہسپتال میں آگ نرسری میں ایئر کنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے لگی جس سے نرسری میں موجود 14 نومولود جاں بحق ہوگئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کی نرسری میں آگ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر لگی۔پمز ہسپتال کے حکام کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری میں 15 بچے تھے، آگ لگنے سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک کو بچا لیا گیا۔والدین نے کہا کہ جس وقت آگ لگی عملہ انکیوبیشن سینٹر میں نہیں تھا، نرسری میں نہ گائنی ڈاکٹر موجود تھی اور نہ ہی کوئی دوسرا عملہ موجود تھا، این آئی سی یو کا دروازہ بھی لاک تھا، واقعے کے 2 گھنٹے بعد ریسکیو اور 4 گھنٹے بعد پولیس پہنچی۔غم سے نڈھال والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔بعدازاں پمزہسپتال کے ایم سی ایچ وارڈ کو سیل کر دیا گیا۔ریسکیو حکام کے مطابق پمز اسپتال کی نرسری میں آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ کا مکمل کیا گیا ۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا، آگ پمز اسپتال کی ایم سی ایچ وارڈ کے تیسرے فلور پر لگی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثے میں 14 بچے مکمل جھلس گئے، واقعے کی انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔ دوسری جانب اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آگ لگنے سے نومولود بچوں کی اموات کے واقعے سے متعلق ریسکیو ذرائع نے کہا کہ ہسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات انتہائی ناقص تھے۔ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ فائرہوز میں کپلنگز نہیں تھے، فائر پوائنٹ پر پانی بھی نہیں تھا، ہنگامی انخلا کے راستوں پر تالے لگے ہوئے تھے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت انکیوبیشن سینٹر میں ڈاکٹرز، وارڈ بوائے اور کوئی عملہ موجود ہی نہیں تھا۔وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایا کہ 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، ڈی جی ہیلتھ اور سیکریٹری ہسپتال میں ہیں، متعلقہ حکام والدین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔مصطفی کمال نے کہا کہ 6 بج کر 45 منٹ پر ایئر کنڈیشن میں دھماکے کے بعد آگ لگی جو بہت تیزی سے پھیلی، دھماکے کے ساتھ ہی ہسپتال کی بجلی بھی چلی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ آئی سی یو میں ڈاکٹرز اور عملہ موجود تھا، وہاں موجود عملہ ریسکیو کو بلانے کےلئے گیاتاہم آگ بہت تیزی سے پھیلی، اسپتال میں آگ بجھانے کے آلات کام کر رہے تھے، پمز اسپتال اپنی صلاحیت سے زیادہ کام کر رہا ہے۔ دریں اثناءوزیراعظم شہباز شریف نے پمز وہسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے نومولود بچوں کی اموات پر دکھ کا اظہار کیا ہے،وزیراعظم نے آگ لگنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایات دے دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتِ حال ناقابلِ تلافی ہے، واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ذمے داران کا تعین اور سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس واقعے پر دل رنجیدہ ہے، والدین کے اس دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔ بعد ازا ں پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا۔اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متعلقہ افسران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا۔وزیرِ اعظم نے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نویل اعوان شامل ہیں۔دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بھی واقعے کی انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، انکوائری کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔انکوائری کمیٹی کے سربراہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کریں گے جبکہ کمیٹی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی اور ایس پی سٹی بھی شامل ہیں، اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن اور ڈی جی سی ڈی اے بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔آئیسکو اور پمزہسپتال کے افسران کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے، انکوائری کمیٹی تحقیقات کے بعد 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی۔