میں بڑا فیصلہ کرنے جا رہا ہوں کہ ایران کو تباہ کردوں یا انہیں دوبارہ پنپنے دوں، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں، انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایران کو تباہ کردیں یا انہیں دوبارہ پنپنے دیں،ایران مشرق وسطی میں بدمعاشی کرتا تھا ،اب نہیں کرسکتا، یقین ہے مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران سے ڈیل ہوجائے گی،امریکا آج ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور ہے، مستقبل پہلے سے بہت زیادہ روشن ہے،دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے، امریکی سرحدیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں،کسی عالمی ادارے کو امریکی شہریوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے اور امریکا اپنے شہریوں اور قومی مفادات کا ہر صورت دفاع کرے گا،امریکا اپنے فوجی اہلکاروں کو کسی بھی امریکا مخالف ٹریبونل کے نام نہاد اور نمائشی ٹرائلز کا نشانہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ منگل کو یہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آج ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور ہے، امریکا آگے بڑھ رہا ہے اور امریکا کا مستقبل پہلے سے بہت زیادہ روشن ہے۔انہوں نے کہا کہ آج امریکا میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے، امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے، آج امریکی سرحدیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں، امریکا میں آج 125 سال کے مقابلے میں قتل کی وارداتوں کی شرح کم ترین ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ لوگوں نے امن کی باتیں کیں، میں نے امن کا قیام ممکن بنایا، امریکا میں غربت کی شرح ریکارڈ سطح تک نیچے آگئی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران مشرق وسطی میں بدمعاشی کرتا تھا لیکن اب نہیں کرسکتا، ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران دنیا میں دہشتگردی کو پروموٹ کر رہا تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ تہران سے معاہدہ کرنا چاہا لیکن ایران نے انکار کردیا، ایران کی دہشتگرد رجیم بہت برے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، ایران کا برا طرز عمل اس لیے نہیں کہ وہ طاقتور ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ کمزور ہوگئے ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی معیشت تباہ ہوچکی اور اب وہاں مہنگائی 300 فیصد ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران سے ڈیل ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایران دیکھنا چاہتے ہیں کہ مڈٹرم الیکشن میں میری پوزیشن کیا رہتی ہے، ایرانیوں کو احساس نہیں کہ میں تو مڈٹرم الیکشن میں لڑ ہی نہیں رہا۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے ایک ارب بیرل تیل نکلوایا ہے۔انہوں نے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں ایک بار پاکستان اور بھارت کی جنگ ختم کرانے کا ذکر کیا۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت سے نکل جائیں۔ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی عالمی ادارہ امریکا پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے، عالمی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں پر دائرہ اختیار حاصل نہیں، امریکا کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کسی عالمی ادارے کو امریکی شہریوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے اور امریکا اپنے شہریوں اور قومی مفادات کا ہر صورت دفاع کرے گا۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجی اہلکاروں کو کسی بھی امریکا مخالف ٹریبونل کے نام نہاد اور نمائشی ٹرائلز کا نشانہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے رکن ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں عدالت کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس بدمعاش ادارے سے باضابطہ طور پر مستعفی ہو جائیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں واحد رہنما ہوں جس نے دنیا میں امن قائم کیا جب کہ باقی لوگ صرف باتیں ہی کرتے ہیں۔انھوں نے ایران کے بعد کیوبا کی باری آنے کا مبہم اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا مغربی نصف کر ارض میں اپنے مفادات کے لیے ضرورت پڑنے پر بے مثال فوجی طاقت استعمال کرے گا۔کیوبا پر الزامات کی بارش کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کیوبا کی حکومت کئی دہائیوں سے امریکا میں شرپسند جماعتوں کمیونسٹ پارٹی یو ایس اے، انٹیفا اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس سمیت بعض گروہوں سے رابطے میں ہیں۔امریکی صدر نے وینزویلا اور اس کے تیل کے حوالے سے امریکی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا وینزویلا کے تیل سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل ہوا ہے جبکہ وینزویلا کے 17 آئل فیلڈز سے پیداوار امریکا منتقل کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آچکا ہے۔ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکی توانائی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا سے آنے والا اضافی تیل امریکی ریفائنریوں میں پروسیس ہوگا، جس سے امریکی توانائی کی فراہمی میں اضافہ اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی میں مدد مل سکتی ہے۔قبل ازیں میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے امریکی ہتھیاروں میں کمی کی بات کرنے والوں کو غدار قرار دے دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بزدل اور غدار یہی کہیں گے کہ امریکا کے پاس گولہ بارود کم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ہتھیاروں میں کمی واقع ہونے کی بات درست نہیں۔ امریکا کے پاس اتنا گولہ بارود ہے کہ خود امریکا اس کے استعمال کا تصور نہیں کرسکتا۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اب اپنے ہتھیاروں کو تعداد پہلے سے زیادہ اونچی سطح تک بڑھانے جارہا ہے۔