Author: admin

  • بلوچستان میں13لاکھ سے زائد مالیت کے انسانی بال اسمگل کرنے کی کوشش ناکام 

    بلوچستان میں13لاکھ سے زائد مالیت کے انسانی بال اسمگل کرنے کی کوشش ناکام 

     

    نصیر آباد (یو این اے )بلوچستان کے علاقے نصیر آباد می 13لاکھ سے زائد مالیت کے انسانی بال اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کسٹمز حکام نے بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں ایک انوکھی اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر منتقل کیے جانے والے 45 کلو گرام انسانی بال ضبط کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور اس کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ کسٹمز حکام کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے میں بتایا گیا کہ برآمد کیے گئے ان انسانی بالوں کی مقامی مالیت کا اندازہ تقریبا 13 لاکھ 50 ہزار روپے لگایا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی قیمت اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص یہ انسانی بال بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سستے داموں خرید کر پنجاب منتقل کر رہا تھا، جہاں انہیں پروسیسنگ کے بعد مہنگے داموں وِگز بنانے اور بیرونی ممالک خصوصا چین اور دیگر مارکیٹس میں اسمگل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ کسٹمز حکام کے مطابق قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر ملزم کے خلاف کسٹمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

  • بین الصوبائی تعاون قومی استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے: صدر آصف علی زرداری

    بین الصوبائی تعاون قومی استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے: صدر آصف علی زرداری

     

    کراچی/کوئٹہ ( آئی این پی )صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ملاقات کی، جس میں بین الصوبائی امور اور باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران ملک میں بین الصوبائی ہم آہنگی، تعاون کے فروغ اور قومی استحکام سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ بین الصوبائی تعاون کے فروغ سے ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے جاری کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مو¿ثر رابطہ اور تعاون قومی یکجہتی اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

  • خضدار میں زیر زمین پانی کی سطح تشویشناک حد تک گرنے لگی

    خضدار میں زیر زمین پانی کی سطح تشویشناک حد تک گرنے لگی

     

    خضدار ( آئی این پی ) خضدار میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل اور تشویشناک حد تک گر رہی ہے، جس پر شہریوں اور ماہرینِ ماحولیات نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کی کئی وجوہات ہیں، تاہم دو عوامل سب سے زیادہ نمایاں قرار دیے جا رہے ہیں۔پہلی وجہ شہریوں اور مقامی ماہرین کے مطابق کٹان ندی میں ٹینکر مافیا اور غیر قانونی بجری نکالنے والے عناصر کی جانب سے مختلف مقامات پر کھدائی ہے، جس سے گہرے گڑھے بن چکے ہیں۔ بارش کے دوران پانی انہی گڑھوں میں جمع ہو جاتا ہے، نتیجتا ندی کے قدرتی بہا اور زیرِ زمین آبی ذخائر کی ریچارج کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔دوسری جانب شہریوں کا مقف ہے کہ متعلقہ سرکاری محکموں اور بعض ٹھیکیداروں کی مبینہ بدعنوانی کے باعث متعدد واٹر سپلائی اسکیمیں نامکمل چھوڑ دی جاتی ہیں، جبکہ نئی سرکاری ٹیوب ویل اور کنویں مسلسل کھودے جا رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ ان میں سے کئی بور چند ماہ بعد ہی خشک ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح مزید نیچے چلی جاتی ہے۔ ماہرینِ آبی وسائل کے مطابق زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال اور ریچارج میں رکاوٹیں آبی ذخائر پر دبا بڑھا سکتی ہیں۔شہریوں، سماجی حلقوں اور ماہرین نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ کٹان ندی سے غیر قانونی بجری نکالنے کی مثر روک تھام کی جائے، واٹر سپلائی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، نئے سرکاری ٹیوب ویل سائنسی جائزے کے بعد ہی منظور کیے جائیں اور خضدار میں زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع پالیسی نافذ کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت عملی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں خضدار کو شدید آبی بحران، زیرِ زمین پانی کی مزید کمی اور خشک سالی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • خضدار : ڈاکٹروں کی ہڑتال، مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا۔ پرائیویٹ ہسپتال آباد سول ہسپتال ویران

    خضدار : ڈاکٹروں کی ہڑتال، مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا۔ پرائیویٹ ہسپتال آباد سول ہسپتال ویران

    خضدار (آن لائن) ڈاکٹروں کی ہڑتال، مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا۔ پرائیویٹ اسپتال آباد سول اسپتال ویران۔ تفصیلات کے مطابق خضدار کے سرکاری اسپتال میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث علاج معالجے کا نظام شدید متاثر ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں غریب اور نادار مریض سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ دور دراز علاقوں سے علاج کی امید لے کر آنے والے مریض اور ان کے اہلِ خانہ اسپتال میں طبی سہولیات نہ ملنے پر مایوس واپس لوٹنے یا مہنگے نجی کلینکس کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ ڈاکٹرز جو کہ سرکاری اسپتال میں ہڑتال پرہیں جبکہ نجی اسپتالوں میں چھری ہاتھ میں لی¿ے بیٹھے ہیں ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتال عوام کو مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں، لیکن اگر یہی ادارے بند رہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق بیمار افراد کو بروقت علاج سے محروم کرنا ایک انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے، جس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے عوام نے حکومتِ بلوچستان، محکمہ? صحت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹروں اور متعلقہ حکام کے درمیان مسائل کو جلد از جلد حل کریں تاکہ سرکاری اسپتالوں میں طبی خدمات بلا تعطل بحال ہو سکیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامی تنازعات یا احتجاج کی سزا مریضوں کو دینا کسی بھی صورت مناسب نہیں، کیونکہ عوام کی جانوں کا تحفظ اور بروقت علاج حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

  • موسمی تغیرات سےنبردآزما ہونے کےلیےوفاقی اورصوبائی سطح پرتعاون ناگزیر ہے،وزیراعظم

    موسمی تغیرات سےنبردآزما ہونے کےلیےوفاقی اورصوبائی سطح پرتعاون ناگزیر ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے موسمیاتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل تعاون ناگزیر ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون سیزن کی تیاری، ممکنہ سیلابی صورتحال اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی و صوبائی اداروں کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    شہباز شریف نے ہدایت کی کہ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی، چیئرمین این ڈی ایم اے اور متعلقہ حکام اس ہفتے تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا دورہ کریں تاکہ مون سون سے قبل زمینی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

    وزیراعظم نے وزیر منصوبہ بندی کی نگرانی میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور متعلقہ وزارتوں پر مشتمل ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی، جو صوبائی اداروں کے ساتھ عملی رابطہ اور تعاون یقینی بنائے گی۔

    ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کو ہفتہ وار اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

    وزیر خزانہ کو ممکنہ سیلاب یا دیگر قدرتی آفات کی صورت میں ہنگامی فنڈز کی پیشگی تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

    وزیراعظم نے زور دیا کہ بین الاقوامی مالی معاونت سے جاری منصوبوں کو قومی اور مقامی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔

    آبی منصوبوں اور سیلابی خطرات سے متعلق وزیراعظم نے بتایا کہ بجٹ میں آبی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے 330 ارب روپے کی اضافی رقم مختص کی گئی ہے۔ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    اجلاس میں صوبائی حکومتوں کو دریاؤں کی گزرگاہوں اور ممکنہ سیلابی راستوں سے تجاوزات کے خاتمے اور دیگر رکاوٹوں کو دور کرنے کی ہدایت کی گئی۔ تمام متعلقہ اداروں کو مون سون کے دوران اپنی ادارہ جاتی اور تکنیکی صلاحیتیں عوام کی حفاظت اور سہولت کے لیے بروئے کار لانے کی ہدایت بھی کی گئی۔

    اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے مون سون کی تیاریوں، ممکنہ بارشوں اور سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہروں اور غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیوں کے امکانات نمایاں ہیں۔پاکستان میں بھی جولائی کے دوران شدید گرمی کے ساتھ معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مجوزہ حکمت عملی کے تحت تمام ضروری انتظامات اور پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ آصف، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، عطا اللّٰہ تارڑ، سردار اویس لغاری، مصدق ملک، شزا فاطمہ، اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللّٰہ، چیئرمین واپڈا سمیت تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • ناران: ویڈیو بنانے کی کوشش مہنگی پڑ گئی، گاڑی دریائے کنہار میں بہہ گئی

    ناران: ویڈیو بنانے کی کوشش مہنگی پڑ گئی، گاڑی دریائے کنہار میں بہہ گئی

    مانسہرہ کے سیاحتی علاقے ناران میں ویڈیو بنانے کی کوشش کے دوران ایک گاڑی دریائے کنہار میں بہہ گئی۔

    پولیس کے مطابق چار دوست گاڑی کو دریا سے گزار کر ویڈیو بنا رہے تھے کہ اچانک پانی کے تیز بہاؤ کے باعث گاڑی بے قابو ہو کر دریا میں بہہ گئی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چاروں نوجوانوں کو بچا لیا۔

    ڈی ایس پی صداقت خان کے مطابق دریا میں بہہ جانے والی گاڑی کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

  • نامناسب تصاویر لینا بند کریں: نیہا دھوپیا پاپارازی پر برہم

    نامناسب تصاویر لینا بند کریں: نیہا دھوپیا پاپارازی پر برہم

    بھارتی اداکارہ نیہا دھوپیا نے پاپارازی کی جانب سے نامناسب انداز میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایسی حرکتوں سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔

    ممبئی میں ایک ایوارڈ تقریب کے دوران نیہا دھوپیا براہِ راست فوٹوگرافروں کے پاس گئیں اور کہا کہ بدتمیزی سے بیک شاٹ کون لیتا ہے؟ یہ مت کیا کریں، نہ میرے ساتھ اور نہ ہی کسی اور کے ساتھ، ہم یہ بات بار بار کہہ کر تھک گئے ہیں، ہم باہر آتے ہیں اور آپ لوگ اس طرح کی ویڈیوز بناتے ہیں۔

    نیہا کا یہ ردِعمل ان کی حالیہ ایک وائرل ویڈیو کے بعد سامنے آیا، جس میں انہیں ٹریک پر دوڑتے ہوئے فلمایا گیا تھا۔

    اداکارہ سوناکشی سنہا نے بھی نیہا کی حمایت کرتے ہوئے وائرل ویڈیو کے کمنٹس میں لکھا ویل ڈن نیہا۔

    چند روز قبل سوناکشی سنہا بھی ممبئی کے ایک ریسٹورنٹ کے باہر پاپارازی کے رویے سے نالاں دکھائی دی تھیں، وہ اپنے شوہر ظہیر اقبال اور والد کے ہمراہ موجود تھیں، جہاں انہوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا کہ بس، گائز شکریہ، گڈ نائٹ! تاہم اس کے باوجود کیمرے ان کا تعاقب کرتے رہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی بھارتی اداکار نے پاپارازی کی جانب سے نجی زندگی میں مداخلت یا نامناسب زاویوں سے تصاویر لینے پر اعتراض کیا ہو۔ اس سے قبل سلمان خان، جھانوی کپور، پلک تیواری اور زرین خان بھی اس معاملے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں۔

  • پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کیخلاف کارروائیوں سے متعلق بھارت کے بےبنیاد بیان کو مسترد کر دیا

    پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کیخلاف کارروائیوں سے متعلق بھارت کے بےبنیاد بیان کو مسترد کر دیا

    پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف پاکستان کی جائز، ٹارگٹڈ اور متناسب کارروائیوں کے بارے میں بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد بیان کو مسترد کیا ہے۔

    بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے 29 جون کو جاری بیان پر پاکستان کے ردعمل سے متعلق ذرائع ابلاغ کے سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف پاکستان کی جائز، ہدفی اور متناسب کارروائیوں کے حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز بیان ایسے ملک کی جانب سے سامنے آیا ہے جو تاریخی طور پر اپنے ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا رہا ہے، ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نقصان پہنچاتا رہا ہے اور وہ اب بھی اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کو دبائے ہوئے ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی معاونت اور سرپرستی میں بھی سرگرم ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے متعلقہ پابندیوں کے نظام کی خلاف ورزی ہے اور وہ مسلسل خطے میں امن کو نقصان پہنچانے والے کردار کے طور پر کام کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے۔

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق  پاکستان اور بھارت نے قونصلر رسائی سے متعلق دوطرفہ معاہدے کے تحت ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا سفارتی ذرائع سے تبادلہ کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 21 مئی 2008 کے معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرنے کے پابند ہیں۔

  • ایران کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بہت کام باقی ہے: اسرائیلی وزیراعظم

    ایران کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بہت کام باقی ہے: اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل نے ایران، حماس اور حزب اللہ کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور ایرانی پراکسیز کے خلاف مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

    یہ بات انہوں نے اسرائیل کے نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہی جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران، حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگیں ختم ہوچکیں یا ان میں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے؟

    انہوں نے کہا کہ یہ جنگیں کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، اگر آپ مشرقِ وسطیٰ اور دنیا میں محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو ہر وقت مضبوط اور چوکنا رہنا ہوگا۔

    نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکا ہے اور اس نے اپنے دشمنوں کو نمایاں حد تک کمزور کر دیا ہے تاہم ان کے بقول ابھی بھی بہت سا کام باقی ہے، ہمیں ایرانی محور کے باقی ماندہ عناصر سے نمٹنا ہوگا اور ساتھ ہی امن معاہدوں کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔

    دوران انٹرویو نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ وہ کن ممالک کے ساتھ مستقبل میں امن معاہدوں کی توقع رکھتے ہیں اور کیا ان میں سعودی عرب بھی شامل ہے تو انہوں نے کسی ملک کا نام لینے سے گریز کیا۔

    انہوں نے کہا کہ میں ابھی کسی ملک کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ میں نتائج دینا چاہتا ہوں لیکن وقت آنے پر سب دیکھیں گے، لبنان کے ساتھ ایسی پیشرفت ہوئی جس کا کسی کو تصور بھی نہیں تھا، دیگر ممالک کے ساتھ بھی رابطے جاری ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ جب کوئی ملک طاقتور ہوتا ہے تو دوسرے ممالک اس کے ساتھ اتحاد بھی کرتے ہیں اور امن معاہدے بھی کرتے ہیں۔