خضدار(بیورورپورٹ)خضدار،تحصیل وڈھ کے علاقے وہیر میں موسلا دھار بارشوں نے تباہی مچا دی ہےزمینداروں کی کئی ایکڑ پر کھڑی تیار فصلیں طوفانی بارشوں سے مکمل طور پر تباہ ہو گئیں بارش کی شدت سے متعدد زمینداروں کے قیمتی سولر پلیٹیں بھی ٹوٹ کر ناقابل استعمال ہوگئے ہیں علاقہ میں مجموعی طور پر کاشتکاروں کو لاکھوں روپئے کا مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہےمتاثرہ زمینداروں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری امداد اور نقصانات کے ازسرنو جائزے کا مطالبہ کیا ہےعلاقہ عوام کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو زرعی بحران شدت اختیارکرکے زمیندارطبقہ نان شبنہ کا محتاج بن جائیں گے۔
Category: خضدار
-

خضدار میں پٹرولیم منصوعات کی قیمتیں کنٹرول سے باہر
خضدار(بیورورپورٹ)خضدار میں ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر کوئی موثر کنٹرول نہ ہونے کے باعث شہری سخت پریشانی کا شکار ہیں/مقامی مارکیٹ میں ایرانی پیٹرول کی قیمت پاکستانی سپر پیٹرول کی قیمت سے بھی آگے نکل گئی ہےعوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ خضدار میں ایرانی پیٹرول 280 روپئے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا ہےاس صورتحال نے عام شہریوں سے سستے ایندھن کا سہارا چھین لیا ہےشہریوں کے مطابق دیگراضلاع میں اسی ایرانی پیٹرول کی قیمت 220 روپئے مقرر ہےلیکن خضدار کے عوام کو اس رعایت سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا ہےعلاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہےان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ جائے گاعوام کا مطالبہ ہے کہ خضدار میں بھی ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو دیگر علاقوں کے برابر لایا جائےتاکہ غریب اور متوسط طبقے کوسستی ریلیف مل سکے۔
-

نال، منشیات کے کاروبار میں اضافہ نوجوان نسل کی مستقبل داﺅں پر لگ گئی
نال (آن لائن) گرد و نواح میں منشیات کے کاروبار میں اضافہ، نوجوان نسل متاثرنال اور گرد و نواح کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر منشیات کے کاروبار میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس پر عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق منشیات کی آسان دستیابی کے باعث نوجوان نسل اس لعنت کی لپیٹ میں آ رہی ہے، جس سے ان کی صحت، تعلیم اور مستقبل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اگر بروقت مو¿ثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات فروش عناصر کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاو¿ن کیا جائے، ان کے نیٹ ورک کو ختم کیا جائے اور نوجوانوں کو اس ناسور سے بچانے کے لیے مو¿ثر آگاہی مہم بھی چلائی جائے۔
-

خضدار میں زیر زمین پانی کی سطح تشویشناک حد تک گرنے لگی
خضدار ( آئی این پی ) خضدار میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل اور تشویشناک حد تک گر رہی ہے، جس پر شہریوں اور ماہرینِ ماحولیات نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کی کئی وجوہات ہیں، تاہم دو عوامل سب سے زیادہ نمایاں قرار دیے جا رہے ہیں۔پہلی وجہ شہریوں اور مقامی ماہرین کے مطابق کٹان ندی میں ٹینکر مافیا اور غیر قانونی بجری نکالنے والے عناصر کی جانب سے مختلف مقامات پر کھدائی ہے، جس سے گہرے گڑھے بن چکے ہیں۔ بارش کے دوران پانی انہی گڑھوں میں جمع ہو جاتا ہے، نتیجتا ندی کے قدرتی بہا اور زیرِ زمین آبی ذخائر کی ریچارج کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔دوسری جانب شہریوں کا مقف ہے کہ متعلقہ سرکاری محکموں اور بعض ٹھیکیداروں کی مبینہ بدعنوانی کے باعث متعدد واٹر سپلائی اسکیمیں نامکمل چھوڑ دی جاتی ہیں، جبکہ نئی سرکاری ٹیوب ویل اور کنویں مسلسل کھودے جا رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ ان میں سے کئی بور چند ماہ بعد ہی خشک ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح مزید نیچے چلی جاتی ہے۔ ماہرینِ آبی وسائل کے مطابق زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال اور ریچارج میں رکاوٹیں آبی ذخائر پر دبا بڑھا سکتی ہیں۔شہریوں، سماجی حلقوں اور ماہرین نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ کٹان ندی سے غیر قانونی بجری نکالنے کی مثر روک تھام کی جائے، واٹر سپلائی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، نئے سرکاری ٹیوب ویل سائنسی جائزے کے بعد ہی منظور کیے جائیں اور خضدار میں زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع پالیسی نافذ کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت عملی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں خضدار کو شدید آبی بحران، زیرِ زمین پانی کی مزید کمی اور خشک سالی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
-

خضدار : ڈاکٹروں کی ہڑتال، مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا۔ پرائیویٹ ہسپتال آباد سول ہسپتال ویران
خضدار (آن لائن) ڈاکٹروں کی ہڑتال، مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا۔ پرائیویٹ اسپتال آباد سول اسپتال ویران۔ تفصیلات کے مطابق خضدار کے سرکاری اسپتال میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث علاج معالجے کا نظام شدید متاثر ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں غریب اور نادار مریض سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ دور دراز علاقوں سے علاج کی امید لے کر آنے والے مریض اور ان کے اہلِ خانہ اسپتال میں طبی سہولیات نہ ملنے پر مایوس واپس لوٹنے یا مہنگے نجی کلینکس کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ ڈاکٹرز جو کہ سرکاری اسپتال میں ہڑتال پرہیں جبکہ نجی اسپتالوں میں چھری ہاتھ میں لی¿ے بیٹھے ہیں ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتال عوام کو مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں، لیکن اگر یہی ادارے بند رہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق بیمار افراد کو بروقت علاج سے محروم کرنا ایک انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے، جس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے عوام نے حکومتِ بلوچستان، محکمہ? صحت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹروں اور متعلقہ حکام کے درمیان مسائل کو جلد از جلد حل کریں تاکہ سرکاری اسپتالوں میں طبی خدمات بلا تعطل بحال ہو سکیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامی تنازعات یا احتجاج کی سزا مریضوں کو دینا کسی بھی صورت مناسب نہیں، کیونکہ عوام کی جانوں کا تحفظ اور بروقت علاج حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
